یوسف کربلا علی اکبر علیه السلام کی ولادت با سعادت مبارک

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ دانشگاہ عشق؛ ایثار و درگذر کی جلوہ گاہ، عزت اور سربلندی کی معراج، وفا اور پامردی کی انتہا۔ جو وہاں سے عروج کرگئے، وہ حیات کے افق پر درس حریت دے رہے ہیں آج بھی اور جو رہ گئے زینبی ہوگئے پیغام پہنچاتے رہیں گے تا قیامت، اور جو وہ بھی نہ ہوئے یہ بھی نہ ہوئے یزیدیوں کے زمرے میں شمار ہوئے۔

آج بھی کئی حسینی ہیں علم اٹھا کر عباس کا، میدان جنگ میں صبر و استقامت دکھا رہے ہیں، کچھ تو زینبیت اور حسینیت کا عملی دفاع کررہے ہیں عملی میدان میں اور کچھ پیغام رسان ہیں آج کی کربلا کے، اور ہاں کچھ دکاندار بھی ہیں سامان تجارت کربلا سے لاتے ہیں لیکن افسوس سستی قیمت پر بیچ رہے ہیں وہ متاع گراں، پیغام رسانی کی آڑ میں؛ عزت حسینی منتقل کرنے کے بھیس میں، تحریفوں کے علمبردار، عاشورا کو عزاداری تک محدود کرنے والے اور عزاداری کے لئے نت نئی شکلیں اختراع کرنے والے؛ کچھ بیچتے نہیں ہیں البتہ؛ وہ جنہیں اجرت کی توقع نہیں؛ وہی جو زینبی ہیں۔ کچھ نے شمائل لے لئے خوش ہیں کہ حسینی شعائر کی تکریم کررہے ہیں، مگر عمل کے میدان میں کہیں دور دور بھی دکھائی نہیں دیتے۔

کسی نے خوب کہا کہ یا حسینی بنو یا پھر زینبی ورنہ یزیدی ہو، دیکھیں آج ہم کہاں ہیں؛ مدد فرما اے علی اکبر!

یوسف کربلا علی اکبر علیه السلام

آج کی تاریخ میں افسانے بھی جوڑے گئے ہیں کربلا کے واقعے سے بالخصوص علی اکبر کی شخصیت سے؛ لیکن امکان ہمیشہ فراہم ہے حقائق جاننے کے لئے، دیر صرف کچھ مطالعے اور تحقیق کی ہے۔

علی اکبر بوقت شہادت 13 سال یا 19 سال کے تھے، [1] بقول دیگر 17 سال کے، (2) بقول دیگر 18 سال کے (3) اور بقول دیگر 25 سال کے (4) لیکن 18 سال والی روایت صحیح ترین ہے۔ (5) گویا امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت کے بعد پیدا ہوئے ہیں نور نظر حسین کے۔ (6) گوکہ ایک قول کے مطابق آپ عثمان کے دور خلافت میں پیدا ہوئے ہیں اور ابوالفرج اصفہانی کے بقول اپنے جد امیرالمؤمنین(ع) اور عائشہ سے حدیث بھی نقل کرتے رہے ہیں۔ (7)

بہرحال قدر مسلم یہ ہے کہ آپ کا یوم ولادت 11 شعبان سال ولادت سنہ 33 دو سال قبل از آغاز خلافت امیرالمؤمنین(ع)، ہے۔ (8) اس لحاظ سے آپ کی عمر بوقت شہادت 27 سال بنتی ہے۔ متفق علیہ قول ہے کہ آپ امام سجاد علیہ السلام سے بڑے تھے جو روز عاشورا سنہ 61 کو 23 سالہ تھے۔ (9) اکبر یعنی سب سے بڑا، گویا یہ لقب بھی یہی بتاتا ہے کہ بڑے بھائی علی اکبر تھے۔ گوکہ شیخ مفید سمیت بعض دوسرے اہل فن و قلم کے مطابق امام سجاد (ع) آپ سے بڑے تھے اور علی اکبر درحقیقت امام سجاد ہی تھے جبکہ جو واقعہ طف میں شہید ہوئے اور جن کی والدہ لیلا بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی تھیں ان کا نام تھا علی اصغر۔ (10) لیکن ابن ادریس حلی کہتے ہیں کہ علی اکبر عصر عثمانی میں پیدا ہوئے اور اپنے جد امجد سے روایت بھی نقل کرچکے ہیں۔ (11) اور بڑے بھائی بھی وہی ہیں۔ انساب کے ماہر علماء جیسے زبیر بن بکار، ابوالفرج اصفہانی اور بلاذری نے انساب قریش، مقاتل الطالبیین اور انساب الاشراف میں، مزنی نے لباب اخبار الخلفاء میں اور العمری نے المجدی میں اس قول کی تصدیق کرتے ہیں۔ (12)

اس مقالے میں ابن ادریس کے قول کو تسلیم کیا گیا ہے اور اس کی تصدیق کی لئے ذیل کی کتب سے رجوع کیا جاسکتا ہے:

1-ابومخنف (متوفیٰ 157 ہجری) (13)، بلاذری (متوفیٰ 279 ہجری،) (14)، یعقوبی (متوفیٰ 284 ہجری) (15)، طبری (متوفیٰ 310 ہجری) (16)، ابن سہل بلخی (متوفیٰ 323 ہجری) (17)، مسعودی (متوفیٰ 346 ہجری) (18)، ابو الفرج اصفہانی (متوفیٰ 356 ہجری) (19)، ابن الخطب خوارزمی (متوفیٰ 630 ہجری) (20)، عبد الرحمان بن جوزی (متوفیٰ 597 ہجری) (21) ، ابن اثیر جزری (متوفیٰ 630 ہجری) (22) ، سبط بن جوزی (متوفیٰ 654 ہجری) (23)، اربلی (متوفیٰ 692 ہجری) (24)، ابن کثیرشامی (متوفیٰ 774 ہجری) (25)، ابن صباغ مالکی (متوفیٰ 855 ہجری) (26)، طریحی (متوفیٰ 1085 ہجری) (27)

علی اکبر علیہ السلام کی والدہ ماجدہ

نام مادر علی اکبر علیہ السّلام

بیشتر مؤرخین کے مطابق آپ کی والدہ ماجدہ لیلا دختر ابی مرة بن عروة بن مسعود ثقفی ہیں گوکہ کچھ ضعیف روایات کے مطابق آپ کی والدہ کا نام آمنہ بنت ابی مرّہ، شهربانو یا بَرّہ ہے (28) اور پہلے قول کو ترجیح حاصل ہے۔

والدہ ماجدہ کا نسب

لیلا کی والدہ کا نام میمونہ بنت ابی سفیان تھا (29) دادا عروہ بن مسعود ہیں جو اپنی قوم کے زعماء میں سے تھے اور قریش ان کے بارے میں کہتے تھے کہ “لَوْ لا نُزِّلَ هذَا اَلْقُرْانُ عَلى رَجُلٍ مِنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ؛ اور انھوں نے کہا کہ یہ قرآن ان دونوں بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا؟ (30) وہ تحریر و کتابت جانتے تھے اور قریش کی طرف سے صلح حدیبیہ کے کاتب تھے اور سنہ 8 یا 9 ہجری میں مسلمان ہوئے اور اپنی قوم میں پلٹنے کی اجازت مانگی۔ آپ(ص) نے اندیشہ ظاہر کیا کہ “تمہاری قوم کہيں تمہیں قتل نہ کردے” لیکن جانے پر اصرار کررہے تھے آخرکار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے جانے اجازت دی دی۔ کی اجازت سے اپنی قوم میں پلٹ کر دعوت اسلام میں مصروف ہوئے اور قوم نہیں انہیں بہت ستایا۔ ایک دن صبح کے وقت اپنے گھر کی چھت پر اذان دے رہے تھے کہ جاہلیت کے متوالوں نے انہیں شہید کردیا۔ کہتے ہیں کہ جب اپنے خون میں لت پت تھے اور ابھی جسم میں جان باقی تھی کہ مشرکین نے پوچھا: اپنے خون میں کیا دیکھ رہے ہو؟ کہنے لگے: میں اپنے کرامت میں وہ کرامت دیکھ رہا ہوں جس سے اللہ نے مجھے عزت بخشی اور وہ شہادت دیکھ رہا ہوں جو اللہ نے مجھے عطا کی۔ انہیں اپنی وصیت پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی راہ میں قتل ہونے والے شہداء کے پہلو میں دفنایا گیا۔ پیغمبر(ص) نے ان کی شہادت کی خبر پا کر فرمایا: عروہ کی مثال سورہ یس میں مذکورہ اس پیغمبر کی مثال ہے جس نے اپنی قوم کو خدا کی طرف بلایا اور قوم نے انہیں قتل کردیا۔ (31) علی اکبر علیہ السلام کے نانا ابو مرہ رسول اللہ(ص) کے دور میں پیدا ہوئے اور صحابہ میں شمار ہوئے۔ ایک روایت یہ ہے کہ ابو مرہ اور ان کے بھائی ملیح والد کی شہادت کے بعد آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے، والد کی شہادت کی روداد سنائی اور مسلمان ہوئے۔ (32)

کیا علی اکبر علیہ السلام کی والدہ کربلا میں حاضر تھیں؟

ایک روایت میں ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے بی بی لیلا سے کہا کہ فلاں خیمے میں جاکر بیٹے کی سلامتی کے لئے دعا کرو (33) دوسری روایت میں ہے کہ بی بی نے منت مانی کہ اگر علی اکبر علیہ السلام میدان سے صحیح و سالم پلٹ آئیں تو میں کربلا سے مدینہ تک ریحان کے پھول بؤوں گی، یعنی تقریبا 1800 کلومیٹر کے طویل راستے میں! (34) ہندوستان اور پاکستان کے ذاکرین کے ہاں بہت معتبر کتاب ریاض القدس میں بی بی لیلا کا تذکرہ کچھ زيادہ نہیں ہؤا ہے۔ جبکہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی عزاداری کا تذکرہ بہت ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ بی بی لیلا سلام اللہ علیہا علی اکبر کو حضرت زینب(س) کے سپرد کردیا تھا اور اپنے آپ کو ان کی ماں ہی نہیں جانتی تھیں؛ کہا گیا ہے کہ علی اکبر میدان میں اترے تو ماں نے وداع کرتے ہوئے شفاعت کی التجا کی اور خیمے میں جاکر مٹی پر بیٹھ گئیں اور بیٹے کی واپسی کی دعا میں مصروف ہوئیں۔ (35) ایک روایت میں ہے کہ ایک بڑا پہلوان بکر بن غانم علی اکبر کے مقابلے پر آیا تو امام حسین علیہ السلام کے چہرہ مبارک کی رنگت بدل گئی، بی بی لیلا نے عرض کیا: کیا علی اکبر کو کچھ ہوا؟ فرمایا: دعا کرو، جو شخص مقابلے پر آیا ہے، بہت قوی ہے، اور انھوں نے دعا کی اور علی اکبر نے اس کے دو ٹکڑے کردیئے۔ (36)

ریاض القدس کے مؤلف نے علی اکبر کے جسم مبارک پر بی بی لیلا کی عدم حاضری کے بارے میں لکھا ہے کہ جب انھوں نے علی اکبر کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا تو فرط غم سے اٹھ ہی نہ سکیں۔ (37)

لیکن حقیقت یہ ہے کہ تاریخ کے لحاظ سے یہ واقعات درست نہیں ہیں اور ان کے لئے کسی سند و ثبوت کا سہارا نہیں لیا گیا ہے؛ محققین کہتے ہیں کہ کوئی معتبر ثبوت ایسا نہیں ہے جس سے بی بی لیلا کی کربلا میں حاضری ثابت ہوسکے، حتی کہ یہ بھی ثابت نہیں کیا جاسکا کہ واقعۂ کربلا کے وقت بی بی بقید حیات تھیں۔ (38)

کتاب “ریاحین الشریعہ” کے مؤلف ذبیح اللّہ محلاتی لکھتے ہیں کہ تاریخ اور مقاتل کی کتابوں میں بی بی لیلا کی کربلا میں موجودگی کا تذکرہ ہی نہیں ہؤا ہے اور متقدم عرب اور فارسی کے مرثیہ گو شعراء کی شاعری میں بھی مادر علی اکبر کا تذکرہ نہیں ہے اور اگر وہ کربلا میں ہوتیں تو تذکرہ ہونا چاہئے تھا۔ علامہ محلاتی نے بی بی لیلا کے بارے میں صرف ایک روایت میرزا ہادی شیرازی سے نقل کی ہے۔ لکھتے ہیں: نجف میں میرزا ہادی بر سر منبر ابوالفرج اصفہانی کی کتاب الاغانی سے نقل کررہے تھے کہ: بادیہ نشین عربوں میں سے ایک عرب اونٹ پر سوار مدینہ میں داخل ہؤا، بنی ہاشم کے محلے سے گذرا تو ایک گھر سے نالہ و فریاد کی صدا سنائی دے رہی تھی؛ اعرابی کا اونٹ نالہ سن کر بیٹھ گیا اور اعرابی گھر میں داخل ہوا اور پوچھا کہ نالہ و فریاد کا سبب کیا ہے؟ ایک کنیز دروازے پر آئی اور کہا کہ یہ ام لیلا ہیں جو بیٹے کی شہادت سے لے کر ابھی تک نالہ و فریاد کررہی ہیں۔ (39)

کتاب “زندگانی امام حسین علیہ السّلام” کے مؤلف علامہ سید ہاشم رسولی محلاتی، لکھتے ہیں: تلاش بسیار کے باوجود مجھے الاغانی میں یہ روایت نہیں ملی۔ (40) رسولی محلاتی لکھتے ہیں کہ اس روایت کا تعلق زوجۂ امیرالمؤمنین(ع) بی بی “لیلٰی بنت مسعود دارمی” سے ہو جن کے دو بیٹے عبداللہ بن علی اور ابوبکر بن علی کربلا میں جام شہادت نوش کرگئے تھے۔ چنانچہ اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو واقعہ کربلا کے وقت علی اکبر علیہ السلام کی والدہ کے بقید حیات ہونے کا ثبوت فراہم نہیں کرتا۔ اور متاخرین کی شاعری میں زبان حال کے طور پر جو واقعات بیان ہوئے ہیں جن کے بارے میں علامہ میرزا حسین نوری کا کہنا ہے کہ زبان حال کی کوئی بنیادی نہیں ہے اور اسے کسی چیز کا ثبوت بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (41) نامور محدث شیخ عباس قمی نفس المہموم میں لکھتے ہیں: مجھے کوئی بھی ایسا ماخذ نہیں ملا جس سے کربلا میں اس محترمہ بی بی کی موجودگی کا ثبوت ملتا ہو۔ (42)

مشہور مقتل نگار، علامہ عبدالرزاق المقرم الموسوی لکھتے ہیں: بی بی لیلا کا سال وفات، طول عمر اور کربلا میں ان کی موجودگی ہم پر ثابت نہیں ہوئی ہے صرف فاضل دربندی نے اپنی کتاب اسرار الشہادہ (43) میں بعض ایسی کتب کے حوالے سے ـ کہ جن کا مؤلف نامعلوم ہے ـ لکھا ہے کہ کہ بی بی کربلا میں موجود تھیں لیکن مؤرخین نے اس حوالے کو معتبر نہیں سمجھا ہے اور بہت ممکن ہے کہ بی بی کربلا کے واقعے سے بہت پہلے وفات پا چکی ہوں۔ (44)

چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی قابل اعتماد سند مادر علی اکبر علیہ السلام کی کربلا میں موجودگی کو ثابت نہیں کرتی اور کربلا کے واقعے میں بی بی کا تذکرہ متاخرہ لکھاریوں کی کارستانی ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔

علی اکبر علیہ السلام کی جنگ اور شہادت

ناسخ التواریخ میں ہے کہ علی اکبر علیہ السلام جس طرف بھی حملہ کرتے تھے یزیدی لشکر بکریوں کی مانند بھاگ جاتے تھے اور ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر گرجاتے تھے اور آپ نے 120 یزیدیوں کو فی النار کیا۔ (45) اور ان کی شجاعت کی انتہا یہ کہ ایک حملے میں اسی اشقیا ہلاک کر ڈالے (46] مروی ہے کہ عمر سعد نے طارق شخص کو لالچ دلائی اور اس نے آپ پر نیزے کا وار کیا جسے آپ نے ٹال دیا اور اپنا نیزہ اس کے سینے پر مارا اور نیزہ کی انی دو بالشت تک پشت سے باہر نکلی۔ (47) ایک روایت میں ہے کہ آپ نے 120 کو ہلاک کردیا اور جو آپ کے ہاتھوں زخمی ہوئے وہ لا تعداد تھے۔ (48) لیکن حقیقت یہ ہے کہ واقعۂ کربلا فورا بعد لکھی ہوئی تواریخ میں آپ کے ہاتھ ہلاک شدگان کی تعداد بیان نہیں ہوئی ہے۔

اصلی منابع میں ہے کہ جب اصحاب شہید ہوئے تو خاندان نبوی کے نوجوان جنگ کے لئے تیار ہوئے اور سب سے پہلے علی اکبر علیہ السلام میدان میں اترے۔ (49) امام زمانہ علیہ السلام بھی زیارت ناحیہ میں فرماتے ہیں: سلام ہو آپ پر اے ابراہیم خلیل کے بہترین فرزند کی نسل کے اولین شہید، درود ہو آپ پر اور آپ کے والد پر۔

علی اکبر علیہ السلام متوازن قد و قامت کے خوش چہرہ اور خوش اخلاق نوجوان میدان میں جانے کا اذن مانگنے بابا کی خدمت میں آئے تو فورا اجازت ملی؛ روایت ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے بیٹے کے قد و قامت پر ناامیدانہ سی نگاہ ڈالی، دیدے پرنم ہوئے، آسمان کی طرف نظر ڈالی اور رب متعال کی بارگاہ میں ملتجی ہرئے: اے میرے معبود! گواہ رہنا، ایسا نوجوان سپاہ اشقیا کی طرف نکلا جو جسم اور بدن اور اخلاق و کلام کے لحاظ سے تیرے رسول محمد صلی اللہ علیہ و آلہ سے سب سے زیادہ مشابہبت رکھتا ہے؛ ہمیں جب بھی تیرے محبوب رسول خدا(ص) کے دیدار کا شوق ہوتا اسی نوجوان کی طرف دیکھ لیا کرتے تھے؛ (50) اور پھر عمر بن سعد بن ابی وقاص کی طرف رخ کرکے بلند آواز سے فرمایا: اے ابن سعد! اللہ تیری رَحِم منقطع کردے تو نے ہمارا رحم منقطع کردیا۔ (51)

علی اکبر میدان میں اترتے ہوئے رجز پڑھ رہے تھے:

أنا علی بن الحسین بن علی

نحن و بیت اللّه اولی بالنبی

تاللّه لا یحکم فینا ابن الدعی

أضرب بالسّیف أحامی عن أبی

ضرب غلام هاشمی قرشی (52)

میں ہوں علی بن حسین بن علی

بیت اللہ کی قسم! ہم پیغمبر(ص) کی برکت سے سب پر مقدم ہیں

اللہ کی قسم بدکارہ کی اولاد ہمارے درمیان فرمانروای نہیں کرسکتا

مارتا ہوں شمشیر سے ضرب اور باپ کی حمایت کرتا ہوں

ایک ہاشمی قریشی نوجوان کی ضرب

کچھ لڑنے کے بعد بابا کے پاس آکر عرض کیا: بابا جان! جان بلب کردیا ہے مجھے پیاس نے، اور ہتھیاروں کی سنگینی نے مجھے مشقت میں ڈال دیا ہے؛ کیا ممکن ہے چند بوندوں سے میرے خشک ہونٹوں کو پیاس سے چھٹکارا دیں؟

امام حسین روئے اور فرمایا: “وامصیبتا! اے میری جان، فرزند دلبند، جاؤ، جنگ لڑو، کیونکہ عنقریب اپنے جد امجد محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ کا دیدار کرو گے اور آپ(ص) کے ہاتھوں سے پانی کا چھلکتا جام نوش کرو گے، جس کے بعد کبھی پیاس نہ لگے گی میری جان۔ (53)

علی اکبر میدان میں پلٹ گئے، مسلسل رجز خوانی کرتے رہے اور لشکر یزید پر حملے کرتے رہے، یزیدی گماشتے سامنا کرنے کی جرئت سے عاری، ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ مرہ بن منقذ بن نعمان عبیدی نے جب یہ دیکھا تو کہنے لگا: عربوں کے تمام گناہ میرے عملنامے میں لکھے جائیں، کہ اگر یہ نوجوان میرے قریب سے گذرے اور میں انہیں قتل نہ کردوں؛ مرہ نے نیزہ پھینکا علی اکبر زمین پر آرہے، اور دشمنان دین و انسانیت نے انہیں گھیر لیا اور اپنی تلواروں سے ظلم و ستم کی انتہا کردی۔ (54)

امام حسین علیہ السلام پہنچے تو اپنا رخسار مبارک بیٹے کے رخسار پر رکھا اور فرمایا: “جان پدر! خدا مار دے اس کو جس نے تمہیں قتل کیا، کس قدر گستاخی کی انھوں نے اللہ کی بارگاہ میں! کس قدر توڑ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی حرمت کو؛ تمہارے بعد خاک ہو اس فانی اور بےوفا دنیا پر۔ (55)

عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا نے صوت حزین کے ساتھ بین کررہی تھیں اور کہہ رہی تھیں: “اے میرے بھائی، اور اے میرے بھتیجے! اور اسی حال میں بالین علی اکبر پر حاضر ہوئیں اور اور پیکر بےجان پر گرگئیں، حضرت سیدالشہداء علیہ السلام آگے بڑھے اور اور بہن کو خیموں میں لوٹایا اور اسی اثناء میں نوجوانوں سے فرمایا: “اپنے بھائی کو خیام میں لے جاؤ، اور انھوں نے تعمیل کی۔ (56)

خلاصہ:

علی اکبر علیہ السلام امام سجاد علیہ السلام سے عمر میں بڑے تھے، آپ کا یوم پیدائش 11 شعبان المعظم سنہ 33 ہجری ہے؛ اور آپ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت ظاہری کے آغاز سے 2 سال قبل دنیا میں آئے ہیں۔ اپنے جد امجد حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حیات طیبہ کے آخری پانچ سالوں کو پا چکے ہیں، اور آپ(ع) سے حدیثیں بھی نقل کرچکے ہيں۔ علی اکبر علیہ السلام کی والدہ لیلا بنت ابی عروہ بن مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی اور بی بی لیلا کی والدہ اور علی اکبر(ع) کی نانی میمونہ بنت ابی سفیان بن حرب ہیں۔ بی بی لیلا کے جد امجد مکہ کے بزرگوں میں سے تھے جنہیں رسول اللہ(ص) نے سورہ یس میں مذکور پیغمبر سے تشبیہ دی ہے۔ عاشورا کے دن علی اکبر(ع) کی عمر تقریبا 27 سال تھی؛ کوئی بھی قابل اعتماد ثبوت ایسا نہیں ہے جس سے آپ کی والدہ کی کربلا میں موجودگی ثابت ہوسکے۔ یہ بھی یقین سے کہنا ممکن نہیں ہے کہ عاشورا سنہ 61 کے وقت بی بی لیلا بقید حیات بھی تھیں یا نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:

1۔ شیخ مفید، الارشاد، قم: مؤسسہ آل البیت، چاپ اول، 1417ھ، ج2، ص106۔

2۔ طریحی، فخرالدین، المنتخب، بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ص443۔

3۔ خوارزمی، ابن اخطب، مقتل الحسین، قم: انوار الہدٰی، چاپ اول، 1418ھ‍، ج2، ص34۔

4۔ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی طالب، بیروت، دار الاضواء، چاپ دوم، 1412ھ، ج4، ص118۔

5۔ سپہر، میرزا محمد تقی، ناسخ التواریخ، تہران: کتابفروشی اسلامیہ، 9813ھ‍، ج6، ص 356۔

6۔ اصفہانی، ابو الفرج، مقاتل الطالبین، قم: مؤسسہ دار الکتاب، چاپ دوم، ص53۔

7۔ حلی، محمد بن ادریس، السرائر، مؤسسہ نشر اسلامی، چ دوم، 1410ھ‍، ج1، ص654۔

8۔ مقرم، سید عبد الرزاق، علی أکبر، بیروت: دارالاضواء، ج1، 1433ھ‍، ص12۔

9۔ وہی ماخذ، ص665۔

10۔ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص135۔

11۔ حلی، محمد بن ادریس، السرائر، ج1، ص654۔

12۔ وہی ماخذ، ص655۔

13۔ ازدی، ابو مخنف، وقعۃ الطف، قم: مؤسسۂ نشر اسلامی، چ اول، 1367ھ۔شمسی، ص241۔

14۔ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت: دار التعارف للمطبوعات، ج1، 1397ھ، ج2، ص146۔

15۔ ابن ابی یعقوب، احمد، تاریخ یعقوبی، ترجمہ: آیتی، محمد ابراہیم، تہران: انتشارات علمی وفرہنگی، چ ہشتم، 1378ھ‍۔ شمسی، ج2، ص184۔

16۔ طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت: دار الکتب العلمیہ، چ دوم، 1408ھ، ج3، ص330۔

17۔ بلخی، احمد بن سہل، البدء والتاریخ، بیروت: دار الکتب العلمیہ، چ اول، 1417ھ، ج2، ص146۔

18۔ مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجواہر، قم: دار الہجرہ، چ دوم، 1404 ہجری، ج3، ص61۔

19۔ اصفہانی، ابو الفرج، مقاتل الطالبین، ص52۔

20۔ خوارزمی، ابن اخطب، مقتل الحسین، ج2، ص36۔

21۔ ابن جوزی، عبد الرحمان، المنتظم فی تاریخ الملوک و الامم، تحقیق: محمد عبد القادر عطا و مصطفی عبد القادرعطا، بیروت: دار الکتب العلمیہ، چ اول، 1413 ہجری، ج5، ص3400۔

22۔ ابن اثیر جزری، علی، الکامل فی التاریخ، تحقیق: ابی الفداء عبد اللّہ القاضی، بیروت: دار الکتب العلمیہ، چ سوم، 1418ھ، ج3، ص428۔

23۔ ابن جوزی، سبط، تذکرہ الخواص، بیروت: مؤسسہ اہل البیت، 1410 ہجری، ص229۔

24۔ اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمہ، بیروت: دار الکتب الاسلامی، 1401ھ، ج2، ص250۔

25۔ دمشقی، ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، بیروت: دار احیاء التراث العربی، ج7، ص 201۔

26۔ مالکی، ابن صباغ، الفصول المہمہ، تہران: انتشارات علمی، چ اول، 1375ھ۔ شمسی، ص197۔

27۔ طریحی، فخر الدین، المنتخب، ص 343۔

28۔ رجوع کریں: ابن جوزی، سبط، تذکرۃ الخواص، ص 249، ابن شہرآشوب، مناقب، ج4، ص118۔

29۔ عسقلانی، احمد بن علی بن حجر، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بیروت: دار الکتب العلمیہ، چ اول، 1415ھ، ج7، ص306۔

30۔ سورہ زخرف، آیت 31۔

31۔ عسقلانی، وہی ماخذ، ج4، ص407۔

32۔ عسقلانی، وہی ماخذ، ج7، ص306۔

33۔ مطہری، مرتضی، حماسۀ حسینی، تہران: انتشارات صدرا، ج پانزدہم، 1369ھ۔ شمسی، ج1، ص26۔

34۔ وہی ماخذ۔

35۔ قزوینی، صدر الدین واعظ، ریاض القدس، تہران: انتشارات اسلامیہ، چ دوم، 1376 ہجری، ج2، ص8۔

36۔ شیخ الاسلامی، سید حسین، قیام سالار شہیدان، قم: دفتر انتشارات اسلامی، چ اول، 1379ھ‍۔ شمسی، ص191۔

37۔ وہی ماخذ۔

38۔ رسولی محلاتی، سید ہاشم، زندگانی امام حسین علیہ السّلام، تہران: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، چ اول، 1372ھ‍۔ شمسی، ص461۔

39۔ محلاتی، ذبیح اللّہ، ریاحین الشریعہ، تہران: دار الکتب الاسلامی، چ اول، 1370ھ‍، شمسی، ج3، ص297۔

40۔ وہی ماخذ، ص461۔

41۔ وہی ماخذ، ص461-469۔

42۔ قمی، شیخ عباس، نفس المہموم، ابو الحسن شعرانی، تہران: کتاب فروشی اسلامیہ، ص 165۔

43۔ دربندی، فاضل، اکسیر العبادات فی اسرار الشہادات، بحرین: شرکت المصطفی للخدمات الثقافیہ، چ اول، 1415 ہجری، ج 2، ص 641۔

44۔ مقرم، سید عبد الرزاق، علی الاکبر، ص 11۔

45۔ سپہر، میرزای محمد تقی، ناسخ التواریخ، ج 6، ص 352۔

46۔ ہمان، ص 354۔

47۔ قزوینی، صدر الدین واعظ، ریاض القدس، ج 2، ص 7، کاشفی، ملا حسین واعظ، روضة الشہداء، تہران: چاپ خانہ خاور، چ اول، 1334ھ ۔ ش، ص268۔

48۔ شیخ الاسلامی، سید حسین، قیام سالار شہیدان، ص192۔

49۔ ازدی، ابو محنف، وقعہ الطف، ص 241، اصفہانی، ابو الفرج، مقاتل الطالبین، ص52، شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص106۔

50۔ ابن طاؤس، علی بن موسی، اللہوف علی قتلی الطفوف، ترجمہ: عقیقی بخشایشی، قم: دفتر نشرنوید اسلام، چ دہم، 1381ھ۔ شمسی، ص138۔

51۔ وہی ماخذ۔

52۔ مفید، شیخ أبو عبد اللّہ محمد بن محمد، الارشاد، ج 2، ص 106۔

53۔ وہی ماخذ۔

54۔ أزدی، أبو مخنف، وقعۃ الطّف، ص243۔

55۔ ابن طاؤس، علی بن موسی، اللہوف، ص138۔

56۔ وہی ماخذ۔

ماخذ: مجلہ سخن تاریخ، شمارہ1، ص53۔

بقلم: مرتضی حسینی

ترجمہ و تلخیص: فرحت حسین مہدوی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *