امام حسن عسکری علیہ السلام شیعوں کے گیارھویں امام

امام حسن عسکری علیہ السلام شیعوں کے گیارھویں امام ہیں۔ ان کا نام حسن بن علی بن محمد ہے۔آپ امام ہادی(ع) کے فرزند ارجمند اور امام مہدی(ع) کے والد گرامی ہیں۔
حکومت وقت کی طرف سے عراق کے شہر سامراء میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کیے گئے جو اس زمانے میں ایک مشہور چھاؤنی تھی۔ اس لئے آپ “عسکری” کے لقب ملقب ہوئے۔ آپ کے دوسرے القاب میں ابن‌الرضا، ہادی، نقی، زکی، رفیق اور صامت مشہور ہیں۔حکومت وقت کی کڑی نگرانی میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہونے کی وجہ سے اپنے پیرکاروں سے رابطہ برقرار رکھنے کی خاطر آپ نے مختلف شہروں میں نمائندے مقرر کئے۔ عثمان بن سعید آپ کے خاص نمائندوں میں سے تھے جو آپ(ع) کی وفات کے بعد غیبت صغریٰ کی ابتدا میں امام زمانہ(عج) کے پہلے نائب خاص بھی رہے ہیں۔
امام حسن عسکری سن 260ق. ربیع الاول کے مہینے میں بیمار ہوئے اور اسی مہینے کی آٹھ تاریخ کو 28 سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور اپنے والد محترم امام ہادی(ع) کے جوار میں دفن ہوئے۔ ان دونوں اماموں کا حرم دو مرتبہ دہشت گردوں کے ہاتھوں مسمار ہوا۔ پہلا حملہ 22 فروری 2006 کو ہوا جبکہ دوسرا حملہ اس کے 16 مہینے بعد یعنی 13 مئی 2007 کو کیا گیا۔
زوجہ اور اولاد
ازواج
مشہور قول کے مطابق امام عسکری(ع) نے بالکل زوجہ اختیار نہیں کی اور آپکی نسل ایک کنیز کے ذریعے آگے بڑھی جو کہ حضرت مہدی(عج) کی مادر گرامی ہیں. لیکن شیخ صدوق اور شہید ثانی نے یوں نقل کیا ہے کہ امام زمان(عج) کی والدہ کنیز نہ تھیں بلکہ امام عسکری(ع) کی زوجہ تھیں.[21]
لیکن جو بھی حکمت تھی۔ آخری صدیوں میں امام زمانہ (عج) کی والدہ کے نام کے ساتھ نرجس کا عنوان شیعوں کے لئے باعث پہچان تھا. دوسری طرف جو سب سے مشہور نام منابع میں ملتا ہے وہ صیقل ہے.[23] دوسرے جو نام ذکر ہوئے ہیں ان میں سوسن[24]، ریحانہ اور مریم[25] بھی ہیں.
اولاد
اکثر شیعہ اور سنی منابع کے مطابق ، آپ کے اکلوتے فرزند امام زمانہ (عج) ہیں جو کہ محمد کے نام سے مشہور ہیں.[26]
امام اور عباسی خلفا
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے دور میں عباسی حکومت امیروں کیلئے ایک بازیچہ بن چکی تھی خاص طور پر ترک نظامی سپہ سالاروں کا حکومتی سسٹم میں مؤثر کردار تھا ۔امام کی زندگی کی پہلی سیاسی سرگرمی اس وقت تاریخ میں ثبت ہوئی جب آپ کا سن 20 سال تھا اور آپ کے والد گرامی زندہ تھے ۔آپ نے اس وقت عبدالله بن عبدالله بن طاہر کو خط لکھا جس میں خلیفۂ وقت مستعین کو باغی اور طغیان گر کہا اور خدا سے اس کے سقوط کی تمنا کا اظہار کیا۔یہ واقعہ مستعین کی حکومت کے سقوط سے چند روز پہلے کا ہے ۔ عبد اللہ بن عبد اللہ عباسی حکومت میں صاحب نفوذ اور خلیفۂ وقت کے دشمنوں میں سے سمجھا جاتا تھا۔[40]
مستعین کے قتل کے بعد اس کا دشمن معتز تخت نشین ہوا ۔حضرت امام حسن عسکری علیه السلام کے مقتول خلیفہ کی نسبت احتمالی اطلاعات کی بنا پر معتز نے شروع میں آپ کی اور آپ کے والد کی نسبت ظاہری طور پر کسی قسم کے خصومت آمیز رویہ کا اظہار نہیں کیا ۔حضرت امام علی نقی کی شہادت کے بعد شواہد اس بات کے بیان گر ہیں کہ امام حسن عسکری کی فعالیتیں محدود ہونے کے باوجود کسی حد تک آپ کو آزادی حاصل تھی ۔آپ کی امامت کے ابتدائی دور میں آپ کی اپنے شیعوں سے بعض ملاقاتیں اس بات کی تائید کرتی ہیں لیکن ایک سال گزرنے کے بعد خلیفہ امام علیه السلام کی نسبت بد گمان ہو گیا اور اس نے 255ق میں امام کو زندان میں قید کر دیا لہذا امام آزار و اذیت میں گرفتار ہو گئے ۔نیز امام حسن عسکری علیه السلام اس کے بعد کے خلیفہ مہتدی ک دور میں بھی زندان میں ہی رہے ۔256ق میں معتمد کی خلافت کے آغاز میں اسے شیعوں کے مسلسل قیاموں کا سامنا کرنا پڑا اور امام زندان سے آزاد ہوئے ۔ایک دفعہ پھر امام کو موقع ملا کہ وہ اپنے شیعوں کو مرتب و منظم کرنے کیلئے معاشرتی اور مالی پروگراموں کا اہتمام کر سکیں۔امام کی یہی فعالیتیں وہ بھی عباسی دار الحکومت میں ایک دفعہ پھر ان کیلئے پریشانی کا موجب بن گئیں۔ پس 260 ق میں معتمد کے دستور پر امام حسن عسکری کو دوبارہ زندانی کیا گیا اور خلیفہ روزانہ امام سے مربوط اخبار کی چھان بین کرتا ۔[41] ایک مہینے کے بعد امام زندان سے آزاد ہوئے لیکن مامون کے وزیر حسن بن سہل کے گھر میں نظر بند کر دئے گئے جو واسط نامی شہر کے قریب تھا ۔[42]
شیعوں سے رابطہ
امام حسن عسکری کے دور میں معاشرے میں اکثریتی مذہب اہل سنت تھا اور اسی طرح عباسیوں کی جانب سے شیعہ سخت حالات میں ہونے کی وجہ سے تقیہ کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے.ان حالات میں امام حسن عسکری علیه السلام نے شیعوں کے امور چلانے کیلئے اور وجوہات شرعی کی جمع آوری کیلئے مختلف علاقوں میں اپنے وکیلوں کو روانہ کرتے تھے.[43]
امام سے ملاقات
ہر وقت امام علیه السلام کی جاسوسی کے پیش نظر شیعوں کیلئے امام علیه السلام سے ملاقات کرنا نہایت مشکل تھا یہان تک کہ خلیفۂ عباسی کئی مرتبہ بصرہ گیا تو جاتے ہوئے امام علیه السلام کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتا تھا ۔اس دوران امام علیه السلام کے اصحاب آپ کی زیارت کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھتے تھے ۔[44]اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شیعوں کیلئے مستقیم طور پر امام علیه السلام سے ملنا کس قدر دشوار تھا۔
اسماعیل بن محمد کہتا ہے: جہاں سے آپکا گزر ہوتا تھا میں وہاں کچھ رقم مانگنے کے لئے بیٹھا اور جب امام(ع) کا گزر وہاں سے ہوا تو میں نے کچھ مالی مدد آپ سے مانگی.[45]
ایک اور راوی نقل کرتا ہے کہ ایک دن جب امام(ع) کو دار الخلافہ جانا تھا ہم عسکر کے مقام پر آپ کو دیکھنے کے لئے جمع ہوئے، اس حالت میں آپ کی جانب رقعہ توقیعی (یعنی کچھ لکھا ہوا) ہم تک پہنچا جو کہ اسطرح تھا: کوئی مجھ کو سلام اور حتیٰ میری جانب اشارہ بھی نہ کرے، چونکہ مجھے امان نہیں ہے۔[46] اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ خلیفہ کس حد تک امام علیه السلام اور شیعیان کے درمیان روابط کو زیر نظر رکھتا تھا. البتہ امام اور آپ کے شیعہ مختلف جگہوں پر آپس میں ملاقات کرتے تھے اور ملاقات کے مخفیانہ طریقے بھی تھے جو چیز آپ اور شیعوں کے درمیان رابطہ رکھنے میں زیادہ استعمال ہوئی وہ خطوط تھے اور بہت سے منابع میں بھی یہی لکھا گیا ہے.[47]
شہادت
آپ نے اپنی شہادت سے کچھ عرصہ پہلے سنہ 259ق میں اپنی والدہ کو حج پر بھیجا اور جو کچھ آپ کے ساتھ سنہ 260ق میں ہونے والا تھا اسے اپنی والدہ کے لئے بیان فرمایا اور اپنے فرزند حضرت مہدی (عج) کو اپنی وصیتیں فرمائیں اور ‟اسم اعظم‟، ‟امامت کی میراث‟ اور تلوار کو آپ کے سپرد فرمایا. امام کی والدہ مکہ کی طرف روانہ ہو گئیں اور حضرت مہدی (عج) کو بھی ساتھ لے گئیں.[69]
امام عسکری(ع) پہلی ربیع الاول سنہ 260ق کو بیمار ہوئے اور اسی مہینے کی آٹھویں تاریخ کو 28 سال کی عمر میں سامرا میں ہی اس دنیا سے چل بسے، اور اپنے ہی گھر میں دفن ہوئے جہاں پر آپ کے والد کو بھی دفن کیا گیا تھا.[70]
طبرسی (سنہ 548ق) لکھتا ہے: ہمارے زیادہ تر اصحاب (یعنی اہل تشیع کے علماء) کی نظر میں امام (ع) کی اس دنیا سے جانے کی وجہ مسمومیت تھی اور اس کے آگے بیان کرتا ہے کہ اسی طرح آپ(ع) کے والد اور آپ کے آباؤ و اجداد اور اہل تشیع کے سارے امام شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے ہیں اور اس پر شیعہ علماء کی دلیل امام صادق(ع) یہ روایت ہے کہ جس میں آپ فرماتے ہیں: „واللہ ما منا الا مقتول شہید‟ (خدا کی قسم، ہم سب کو شہادت کی موت نصیب ہو گی)۔[71]
بم دھماکہ
امامین عسکرین(ع) کا حرم دو بار وہابی دہشت گردوں کی بربریت کا نشانہ بن چکا ہے. پہلا حملہ 3 اسفند سنہ1384 بمطابق 22 فروری 2006ء کو اور دوسرا حملہ سولہ ماہ بعد یعنی 23 خرداد سنہ1386 بمطابق 13 جون 2007ء کو ہوا. پہلے حملے میں 200 کلوگرام ٹی این ٹی مواد استعمال ہوا جس کی وجہ سے گنبد اور حرم کے طلائی گلدستوں کو نقصان پہنچا۔ دوسرے حملے میں بھی طلائی گلدستوں کو نقصان پہنچا ۔دھماکوں کے بعد حرمین کی دوبارہ تعمیر کا کام شروع ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *