امام محمد تقی ع کی زندگی کا خلاصہ

امام محمد تقی ع کی زندگی کا خلاصہ
امام محمد ابن علی علیہ السلام جواد الآئمہ کے نام سے مشہور ہیں،تقی و جواد کے علاوہ  ابو جعفر ثانی کے لقب سے جانے جاتے ہیں۔آپ ع کی ولادت 10رجب کو مدینہ منورہ میں ہوئ۔ آپ کے والدآٹھویں امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام اور والدہ جناب خیزران ہیں۔
امام محمد تقی علیہ السلام، اپنے والد گرامی امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد سن 203ہجری میں آٹھ برس کی عمر میں امامت کے بلند منصب پہ فائز ہوۓ اور اسے ہدایت و صداقت کے بلند اہداف تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دیا۔مامون عباسی(ساتویں عباسی خلیفہ) نے امام رضا ع کی شہادت کے بعد آپ سے دلجوئ کرتے ہوۓ اپنی بیٹی ام الفضل کا عقد آپ ع سے کردیا۔
مقام ولادت: مدینہ منورہ
تاریخ ولادت: 10رجب سن 195ہجری،
القاب :تقی،جواد،مرتضیٰ،منتجب،مختار،قانع و عالم
سلسلہ نسب (والد): امام رضا، علی ابن موسیٰ ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب علیہم السلام
والدہ کا نام :سبیکہ،سکینہ،مرسیہ،درہ۔امام رضا ع ان کو خیزران کے نام سے پکارتے تھے۔ آپ نوبہ کی رہائشی اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند، جناب ابراہیم کی والدہ ماریہ قبطیہ کے خاندان سے تعلق رکھنے کے ساتھ اپنے زمانے کی بلند پایہ خواتین میں شمار ہوتی تھیں۔
امامت کی مدت :امام رضا علیہ السلام کی شہادت،سال 203ہجری کے ماہ صفر کی آخری تاریخ سے ذیقعد 220ہجری تک سولہ سال اور نو مہینہ۔
شہادت کی تاریخ اور وجہ : سن 220ہجری میں ذیقعد کی آخری تاریخ کو آپ ع کی زوجہ ام الفضل نے اپنے بھائ جعفر عباسی اور چچا معتصم کے اکسانے پہ آپ کو زہر دیا۔
دفن کا مقام : قریش کے مقبرہ بغداد میں اپنے دادا امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے جوار مبارک میں جو اس وقت کاظمین کے نام سے مشہور ہے۔
ازواج :سمانہ مغربیہ ، مامون کی بیٹی ام الفضل
اولاد : بیٹے :ابوالحسن امام علی النقی علیہ السلام، ابواحمد موسی مبرقع، ابو احمد حسین،ابو موسی عمران
بیٹیاں :فاطمہ،خدیجہ،ام کلثوم اور حکیمہ۔کہا جاتا ہے کہ زینب ،ام محمد ، میمونہ اور امامہ بھی آپ کی اولاد سے تھیں۔
سببِ شہادت اور قاتلوں کا انجام :
عباسی خلیفہ معتصم اور مامون کے بیٹے جعفر نے زہر انگور میں شامل کرکے ام الفضل کو بھیجا۔ام الفضل نے یہ انگور ایک پیالے میں رکھ کے بیحد تعریف کیساتھ امام ع کی خدمت میں پیش کئے۔آخرکار امام ع نے وہ انگور کھاۓ اور کچھ دیر میں ہی اپنے اندر زہر کے اثرات محسوس کئے۔اسی وقت ام الفضل نے پشیمان ہو کر رونا شروع کردیا۔ آپ ع نے اس سے فرمایا:” کیوں رو رہی ہے؟” اب تیرے رونے کا کوئ فائدہ نہیں۔یاد رکھ کہ اس گناہ کی وجہ سے ایسی تکلیف میں مبتلا ہوگی جس کا کوئ علاج نہیں اور اس طرح تنگدست ہوجائیگی جس کا کوئ ازالہ نہیں ہوگا”۔
آپ ع کی بددعا کی وجہ سے ام الفضل ایسی بیماری میں مبتلا ہوئ جس کے علاج کیلئے اس نے اپنا تمام مال خرچ کردیا لیکن کوئ فائدہ نہ ہوا اور بدترین حالت میں اس دنیا سے گئ اسکا بھائ جعفر بھی  نشے کی حالت میں کنوئیں میں گرا اور اسکے بے جان جسم کو وہاں سے نکالا گیا۔
حسین ع عالمی عشق کیمپین، امام جواد علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے موقع پر تمام محبوں اور پیروکاروں کی خدمت میں تعزیت پیش کرتی ہے۔امید ہے کہ ہم  دنیا و آخرت میں آئمہ معصومین علیہم السلام کے وجود سے بہرہ مند ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.