سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی ولادت باسعادت مبارک

امام شبلنجی لکھتے ہیں کہ حضرت امام حسین کی ولادت کے بعدسرورکائنات صلعم نے امام حسین (ع) کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایااوراپنی زبان ان کے منہ میں دے کر بڑی دیرتک چسایا،اس کے بعدداہنے کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی، پھردعائے خیرفرماکر ان کا حسین نام رکھا ۔(1)
علماء کابیان ہے کہ یہ نام اسلام سے پہلے کسی کابھی نہیں تھا۔ یہ نام خودخداوندعالم کارکھاہواہے۔(2)
آپ کی کنیت صرف ابوعبداللہ تھی ،البتہ آپ کے القاب بے شمارہیں جن میں سیدوسبط اصغر، شہیداکبر، اورسیدالشہداء زیادہ مشہورہیں۔ علامہ محمدبن طلحہ شافعی کابیان ہے کہ سبط اورسیدخودرسول کریم کے معین کردہ القاب ہیں (3)
علامہ حسین واعظ کاشفی رقمطرازہیں کہ امام حسین(ع) کی ولادت کے بعد اللہ تعالی نےجبرئیل امین کوحکم دیاکہ وہ زمین پرجاکرمیرے حبیب محمدمصطفی (ص) کومیری طرف سے حسین (ع) کی ولادت پرمبارک باددیں اورساتھ ہی ساتھ ان کی شہادت عظمی سے بھی مطلع کرکے تعزیت پیش کریں،جناب جبرئیل بحکم رب جلیل زمین پرنازل ہوئے اورانہوں نے آنحضرت(ص) کی خدمت میں امام حسین کی ولادت و شہادت کے بارے میں اللہ تعالی کی جانب سے تہنیت اور تعزیت پیش کی۔
یہ سن کرسرورکائنات کاماتھا ٹھنکا اورآپ نے پوچھا ،جبرئیل ماجراکیاہے تہنیت کے ساتھ تعزیت کی تفصیل بیان کرو، جبرئیل نے عرض کی کہ یا رسو اللہ ایک دن ایسا آئے گا جس دن آپ کے چہیتے فرزند”حسین“ کے گلوئے مبارک پرخنجرآبداررکھاجائے گا اورآپ کایہ نورنظربے یارومددگارمیدان کربلامیں یکہ وتنہاتین دن کابھوکا اورپیاسا شہید کردیا جائے گا یہ سن کرسرورعالم محوگریہ ہوگئے آپ کے رونے کی خبرجونہی امیرالمومنین (ع) کوپہنچی وہ بھی رونے لگے اورعالم گریہ کی حالت میں داخل خانہ سیدہ ہوگئے ۔
جناب سیدہ نے جوحضرت علی کوروتادیکھا تو ان کا دل بے چین ہوگیا،عرض کی ابوالحسن رونے کاسبب کیاہے فرمایابنت رسول ابھی جبرئیل آئے ہیں اوروہ حسین کی تہنیت کے ساتھ ساتھ اس کی شہادت کی بھی خبردے گئے ہیں حالات سے باخبرہونے کے بعد فاطمہ (س) نےگریہ کیا،آپ نے نبی کریم (ص) کی خدمت میں حاضر ہوکرعرض کی باباجان یہ کب ہوگا،فرمایاجب میں نہ ہوں گانہ تم ہوگی نہ علی ہوں گے نہ حسن ہوں گے فاطمہ (س)نے پوچھابابامیرابچہ کس خطاپرشہید ہوگافرمایافاطمہ (س) بالکل بے جرم وخطاصرف اسلام کی حمایت میں شہید کیا جائےگا حضرت فاطمہ(س) نے عرض کی باباجان جب ہم میں سے کوئی نہ ہوگا توپھراس پر گریہ کون کرے گااوراس کی صف ماتم کون بچھائے گا،راوی کابیان ہے کہ اس سوال کاحضرت نبی کریم ابھی جواب نہ دینے پائے تھے کہ ہاتف غیبی کی آواز آئی، اے فاطمہ غم نہ کروتمہارے اس فرزندکاغم تا صبح قیامت منایاجائے گا اوراس کاماتم قیامت تک جاری رہے گا ایک روایت میں ہے کہ رسول خدانے فاطمہ(ص) کے جواب میں یہ فرمایاتھا کہ خداکچھ لوگوں کوہمیشہ پیداکرتارہے گا جس کے بوڑھے کربلا کےبوڑھوں پراورجوان کربلا کےجوانوں پراوربچے کربلا کےبچوں پراورعورتیں کربلا کی عورتوں پر گریہ وزاری کرتے رہیں گے۔
پیغمبر اسلام نے اپنی متعدد احادیث میں امام حسین (ع) کی عظمت و شان و شوکت کو بیان فرمایا ہے آنحضور نے فرمایا: حسین (ع) مجھ سے ہے اور میں حسین (ع) سے ہوں خداوندا جو حسین سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ اور جو حسین (ع) سے دشمنی رکھے تو اسے دشمن رکھ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1)(نورالابصار ص ۱۱۳) ۔
2)(ارجح المطالب وروضةالشہداء ص ۲۳۶) ۔
3) (مطالب السؤل ص ۳۱۲)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.