کیا امام حسین (ع) نے حج کو نامکمل چھوڑا؟

ذی الحجہ کی ۸ تاریخ ،کا دن “یوم الترویہ” کے نام سے مشہور ہے ،ذی الحجہ کی پہلی دہائی میں تیسرے امام المومنین وارث المرسلین و حجت رب العالمین  سید الشہداء کے بارے میں ایک سوال جو پوچھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ کیوں امام حسین علیہ السلام نے اپنے حج کو” ترویہ” کے دن نامکمل چھوڑ کر مکہ سے کوچ کیا ؟

دینی سوالات کا جواب دینے والے مرکز نے اس کا جواب دیا ہے جسے آپ آگے ملاحظہ فرمائیں گے؛

اس سے پہلے کہ ہم اس سوال کا تاریخی تجزیہ کریں ،یہ یاد دلادیں کہ فقہی لحاظ سے یہ مشہور واقعہ کہ تیسرے امام المومنین و وارث المرسلین و حجت رب العالمین حضرت امام حسین علیہ السلام  نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ،درست نہیں ہے ، اس لیے کہ امام علیہ السلام ذی الحجہ کی ۸ تاریخ یعنی” یوم الترویہ” کو مکہ سے نکلے تھے (۱) جب کہ حج کے اعمال کہ جو مکہ میں احرام اور عرفات میں وقوف سے شروع ہوتے ہیں وہ ذی الحجہ کی نویں شب سے شروع ہوتے ہیں ،اس بنا پر امام نے حج کے اعمال شروع ہی نہیں کیے تھے کہ یہ کہا جائے کہ آپ نے حج کو نامکمل چھوڑ دیا تھا ۔

جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہء مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف اوقات میں آپ نے عمرہ کے اعمال انجام دیے ہوں گے ۔لیکن عمرہء مفردہ کے اعمال انجام دینے کا مطلب حج کے اعمال کا  آغاز کرنا نہیں ہے ،بعض روایات میں صرف اتنا ہے کہ حضرت سید الشہداء علیہ السلام نے “عمرہء مفردہ “بجا لایا (۲)

اگر چہ مشہور و معروف یہ ہے ور بعض کتابوں جیسے شیخ مفید کی الارشاد میں ذکر ہوا ہے کہ حضرت نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا اور طواف اور سعی انجام دے کر احرام کھول دیا چونکہ آپ حج کو مکمل نہیں کر سکتے تھے (۳) لیکن یہ چیز بعید معلوم ہوتی ہے کہ حضرت نے حج کا احرام باندھا ہو چونکہ جو شخص حج کے اعمال انجام دینا چاہتا ہے وہ علی القاعدہ آٹھویں یا نویں ذی الحجہ کو احرام باندھتا ہے اور اس سے پہلے احران باندھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔

اس بات کی تائیید کے لیے کچھ روایات کافی میں نقل ہوئی ہیں جن میں سے بعض کی جانب ہم اشارہ کرتے ہیں ؛

عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ خَرَجَ فِی أَشْهُرِ الْحَجِّ مُعْتَمِراً ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بِلَادِهِ قَالَ لَا بَأْسَ وَ إِنْ حَجَّ فِی عَامِهِ ذَلِکَ وَ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَلَیْسَ عَلَیْهِ دَمٌ فَإِنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ع خَرَجَ قَبْلَ التَّرْوِیَةِ بِیَوْمٍ إِلَى الْعِرَاقِ وَ قَدْ کَانَ دَخَلَ مُعْتَمِراً (۴)

امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : امام حسین علیہ السلام ذی الحجہ کے آٹھویں دن سے پہلے مکہ سے نکل گئے تھے حالانکہ آپ پہلے حج کے مہینے میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرے کی نیت سے مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ نے عمرہ کیا تھا ۔

اس روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ نے حج کو عمرے میں تبدیل کیا ہو ۔

ایک اور روایت میں امام صادق علیہ السلام  نے فرمایا :

قَدِ اعْتَمَرَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ ع فِی ذِی الْحِجَّةِ ثُمَّ رَاحَ یَوْمَ التَّرْوِیَةِ إِلَى الْعِرَاقِ وَ النَّاسُ یَرُوحُونَ إِلَى مِنًى وَ لَا بَأْسَ بِالْعُمْرَةِ فِی ذِی الْحِجَّةِ لِمَنْ لَا یُرِیدُ الْحَجَّ . (۵)

امام حسین علیہ السلام نے ماہ ذی الحجہ میں عمرہ انجام دیا اس کے بعد ترویہ کے دن عراق کی جانب چلے گئے چنانچہ جو شخص حج نہیں کرنا چاہتا وہ عمرہ کر سکتا ہے ۔

جی ہاں ! حضرت نے مکہ میں داخل ہوتے ہی عمرہء مفردہ انجام دیا ،اور مکہ میں اپنے چند ماہ کے قیام کے دوران مختلف اوقات میں آپ نے عمرہ کے اعمال انجام دیے ہوں گے ۔لیکن عمرہء مفردہ کے اعمال انجام دینے کا مطلب حج کے اعمال کا  آغاز کرنا نہیں ہے۔شاید جب آپ کو پتہ چلا ہو گا کہ یزید کے سپاہی آپ کو حرم میں چھپ کر قتل کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے عراق کی جانب جانے کا فیصلہ کر لیا ،چنانچہ اس وقت امام علیہ السلام نے ایک اور عمرہ انجام دینے کے لیے احرام باندھا اور اس کو مکمل کیا اور احرام اتار دیا اور ترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کے دن  مکہ سےعراق کی جانب روانہ ہو گئے۔

تاریخی نقطہء نظر سے یہ سوال بہر حال باقی ہے کہ اس کے باوجود کہ مکہ کو انتخاب کرنے کی وجہ اپنے نظریات کی تبلیغ کے لیے مناسب موقعہ نکالنا تھا  ،تو کیوں آپ نے ٹھیک اس وقت کہ جب دنیا کے مختلف علاقوں سے  مکہ ،عرفات اور منی میں حاجی جمع ہو رہے تھے اور آنحضرت کے پاس تبلیغ کا بہترین موقعہ تھا اچانک آپ نے مکہ کو چھوڑ دیا ؟

اس اچانک فیصلے کے اسباب کو ہم مختصر طور پر یوں بیان کر سکتے ہیں :

۱ ۔ جانی خطرے کا احتمال ،

امام حسین علیہ السلام کے بعض ارشادات سے کہ جو آپ نے ان مختلف شخصیات سے فرمائے تھے کہ جو آپ کے مکہ چھوڑ کر کوفے کی جانب جانے کے خلاف تھے ،ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امام علیہ السلام مکہ میں زیادہ رہنے کو اپنے لیے خطر ناک مانتے تھے ؛چنانچہ آپ نے ابن عباس کے جواب میں فرمایا ؛ کسی دوسری جگہ قتل ہو نا مجھے مکہ میں قتل ہونے سے کہیں زیادہ پسند ہے (۶)

نیز عبد اللہ ابن زبیر سے فرمایا : خدا کی قسم اگر میں مکہ سے ایک بالشت باہر قتل کیا جاو ں تو مجھے یہ چیز اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک بالشت مکہ کے اندر مارا جاوں ۔خدا کی قسم اگر میں جانوروں کے گھونسلے میں بھی پناہ لے لوں تو یہ لوگ جو کچھ مجھ سے چاہتے ہیں اسے حاصل کرنے کے لیے مجھے اس سے بھی باہر کھینچ لیں گے (۷)

نیز آپ نے اپنے بھائی محمد حنفیہ کو صاف طور بتا دیا تھا کہ یزید آپ کو حرم امن میں قتل کرانا چاہتا ہے (۸) بعض متون میں اس چیز کا ذکر صراحت کے ساتھ ہوا ہے کہ یزید نے کچھ لوگوں کو ہتھیار دے کر امام حسین ع کو قتل کرنے کے لیے مک بھیجا تھا (۹)

۲ ۔ حرم کی بے احترامی نہ ہو نا ،

بیان شدہ بعض عبارتوں میں آگے امام حسین ع کی جانب سے اس نقطے کی یاد آوری پائی جاتی تھی کہوہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کے قتل کیے جانے سے خانہء خدا کی بے احترامی ہو چاہے اس گناہ کے ذمہ دار اموی قاتلین اور جرائم  پیشہ افراد ہی کیوں نہ ہوں ۔

آنحضرت نے عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ ملاقات میں اس بات کو تعریض کے انداز میں بتا دیا تھا کہ وہ بعد میں مکہ میں پناہ لے گا اور یزید کے لشکر والے حرم کے احترام کو تاڑیں گے ۔آپ نے انبن زبیر کے جواب میں فرمایا : میرے باپ علی ع نے مجھ سے فرمایا تھا کہ مکہ میں ایک قوچ ہے کہ جس کے ذریعے مکہ کی حرمت پامال کی جائے گی اور میں نہیں چاتا کہ میں اس قوچ کا مصداق بنوں (۱۰)

حوالے :

۱ ۔ واقعۃ الطف ، ص ۱۴۷ ،

۲ ۔ وسایل الشیعہ ، ج ۱ ، ص ۲۴۶ کتاب حج باب ۷ ابواب العمرہ ج ۲ اور ۳ ،

۳ ۔ شیخ مفید ، الارشاد ج ۲ ص۶۸ ،

۴ و ۵ ۔ الکافی ج ۴ ص ۵۳۶ ،

۶ ۔ ابن کثیر ، البدایہ و النھایہ ، ج ۸ ص ۱۵۹ ،

۷ ۔ اقعۃ الطف ، ص ۱۵۲ ،

۸ ۔ سید ابن طاووس ، لھوف ، ص ۸۲ ،

۹ ۔ گذشتہ حوالہ س ۸۲ ،

۱۰ ۔ ابن اثیر الکامل فی التاریخ ، ج ۲ ص ۵۴۶   

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.