ایک ہی وقت میں امام حسین علیه السلام کے ساته کربلا ارادیت کی تحریک

ایک ہی وقت میں امام حسین علیه السلام کے ساته کربلا ارادیت کی تحریک

 

 

یوم الترویه حضرت کا کربلا کی طرف چلنے کا دن

 

یوم الترویه آٹھویں ذوالحجة اور ایک دن عرفہ تقریب سے پہلے ہے. عربی میں یه دن پانی کی فراہمی اور پانی ذخیره کرنے کا دن ہے یوم الترویه وه دن تها جس میں امام حسین (ع) مکہ میں حجاج کرام کہ ساته تهے بجائے حاجیوں کی طرح تیار هو تاکه عرفات روانگی کریں،وہ الوداعی عمرہ بجا لائے اور حج چھوڑ دی ، اور کربلا کے لئے اپنے سفر کا آغاز کیا.

 

حجته السلام پناهیان اس دن کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:”یه که امام حسین(ع) حاجیوں کے درمیان حج کے لائن سے باہر آئے اور کربلا کی طرف چلے اور حاجی اس خونی سال ، بھلا کا حصول کرتے هوے حضرت امام حسین(ع) کو اکیلے چھوڑ دی بهت معانی رکهتا ہے! لوگ جو که نبی (ص) که اولاد کو نهی مانا ،سب سے پہلے امام حسین (ع ) کے قتل کی تیاریاں کی اور دوسرا یه که خود کو مختلف شعبوں میں تباہ کرنے کی تیاریاں فراہم کی”

 

پناهیان تاریخ شیعه میں سب سے اہم دن پر زور دینے کے ساتھ ،اربعین حسینی که زایروں کو خطاب کرتے هوے کہا “کتنا اچھا ہے لوگ اربعین میں نام لکهنے کے لئے ، محرم اور اربعین کے قریب تک ملتوی نا کرے، لیکن یوم الترویه کے قریب رجسٹر کریں اور کربلا کے سفر کا انتظامات کریں.اس کا مطلب یہ ہے کہ: اس وقت جب امام حسین (ع) کربلا کی طرف حرکت کیا،ہم کو بہی اسی وقت کربلا کے لئے رجسٹر کرنا چاہے. یه ایک قسم کا حسینی قافله کے ساتھ وابستگی ہے”

 

ایران میں یه دن مطابق هے بیسویں شمسی اور میلادی میں دسویں ستمبر کے ساتھ موافق ہےاور عربی کیلنڈر میں آٹھویں ذوالحجة کے ساتھ موافق ہے. اس الفاظ اور یوم الترویه کی اہمیت کے مطابق ، کربلا میں شیعوں کے بڑے اجتماعات ،ایک ہی وقت میں امام حسین (ع) کے حرکت کے ساتھ ، سید شهیدان کے قدموں کے ساتھ ساتھ کربلا کی طرف حرکت کریں .

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.