دنیا کے ضمیر یمنی بچوں کی تصاویر دیکھ کر کیوں نہیں جاگتے؟

گزشتہ روز شام پر ایک فضائی حملے میں ایک پانچ سالہ بچہ عمران دقنیش شدید زخمی ہوگیا تھا۔اس بچے کا چہرہ خون آلود اور غبار آلود تھا اور خون میں لت پت اس بچے کو ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے سے نکالا گیا تھا۔اس کو اسپتال منتقل کرنے کی ویڈیو کی سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر تشہیر کی جارہی ہے۔

اس زخمی بچے کی حالت دیکھ کر دنیا میں ہر انکھ اشکبار ہو گئی۔ حتیٰ کہ امریکا کے محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اپنی روزانہ کی معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ”اس کم سن بچے کی زندگی میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا ہوگا جس میں اس کے ملک میں جنگ ،ہلاکتیں ،غربت اور تباہی نہ ہوتی ہو”۔

جان کربی نے جذباتی انداز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا:”آپ شاید کسی کے باپ نہ ہوں لیکن میں ہوں۔آپ اگر کچھ نہیں کرسکتے ہیں تو اس تصویر کی طرف دیکھیے،یہ شام میں جو کچھ رو نما ہورہا ہے،اس کی حقیقی عکاس ہے”۔

لیکن دنیا کے ضمیر کو جگانے کے لیے ایسی تصاویر کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ کیا وہ پہلے سے نہیں جانتے کہ جنگ میں خواتین اور بچے کس طرح مبتلا ہوتے ہیں۔

مگر اگر حکمرانوں کے ضمیر صرف تصاویر دیکھ کر جاگتے ہیں تو انہیں یمن کے ہو بچے کیوں نہیں دکھائی دیتے جو ہر روز کسی سکول یا ہسپتال پر بمباری میں مارے جاتے ہیں۔ یمن میں سعودی اتحاد کی بمباری سے سیکڑوں بچے اب تک مارے جا چکے ہیں لیکن یہ دنیائے جگر خور واقعا بڑی ہندہ ہے۔

UNICEF: Saudi War Kills Six Yemeni Children a Day

UNICEF: Saudi War Kills Six Yemeni Children a Day

توقیر عباس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.